اساتذہ کرام

حافظ محمد شریف بن فتح محمدحفظہ اللہ تعالی

معروف استاد اور مربی حافظ محمد شریف صاحب نے رائیونڈ ضلع قصور کے قریبی گائوں بھمبہ کلاں میں 1958 ء میں آنکھ کھولی، آپ کے والد فتح محمد ایک زمیندار تھے۔ناظرہ قرآن کریم اور پرائمری تک تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد قریبی گائوں ’’ میر محمد ‘‘ میں حافظ محمد یحي عزیز کی زیر نگرانی مدرسہ میں صرف چھ ماہ میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ آپ کے حفظ کے استاد قاری صدیق الحسن رحمہ اللہ تھے۔خاندان میں آپ پہلے فرد تھے جو دولت توحید سے بہرہ ور ہوئے اور اس راستے میں ان کو بہت سے مصائب وآلام کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حفظ قرآن کے بعد ابتدائی کتب میر محمد اور مدرسہ ضیاء السنہ ۔ راجہ جنگ میں پڑھیں، اور اس کے بعد جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں چھ سال رہ کر تعلیم مکمل کی۔ جہاں پر انہیں حافظ محمد گوندلوی ، حافظ عبدالمنان نور پوری اور ماہر علوم عقلیہ مولانا جمعہ خان جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں آخری سال کی تکمیل کی اور سند فراغت حاصل کی۔ 1981 ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور کلیۃ الحدیث سے ممتاز حیثیت کے ساتھ فراغت حاصل کی، جہاں پر انہیں ڈاکٹر ربیع بن ھادی المدخلی، الشیخ عبدالفتاح العشور ، الشیخ عبدالموجود اور الشیخ عمر فلاتہ جیسے کبار اساتذہ سے کسب فیض کا موقعہ ملا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں روشن قوت حافظہ عطا فرمائی تھی لہذا آپ نے رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ھدایۃ النحو ، ألفیہ ابن مالک ، بلوغ المرام اور مختصر بخاری حفظ بھی کیں۔

جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد عرصہ پانچ سال تک جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیئے۔ اس کے بعد دس سال کا عرصہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مسند تدریس کی رونق رہے۔ دینی مدارس وجامعات میں علمی انحطاط اور تربیتی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے تخصص کی غرض سے1990 ء میں مرکز التربیۃ الاسلامیۃ کی بنیاد رکھی ۔ جس کی خدمات کا دائرہ بہت وسعت اختیار کر چکا ہے ۔  علاوہ ازیں ملک بھر میں آپ کے دعوتی دروس اور خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ دینی اور رفاہ عامہ کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ انہی خدمات کی ترتیب وتنظیم کے لیے 2007 ء میں ’’ التربیۃ انٹرنیشنل ٹرسٹ ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ رب کریم سے دعا ہے کہ صحت وعافیت کے ساتھ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اور ان کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔         

حافظ مسعود عالم بن محمد یحیی حفظہ اللہ تعالی

حافظ صاحب معروف عالم دین اور واعظ مولانا محمد یحیٰ شرقپوری کے فرزند ارجمند ہیں اور ان کا باقی خاندان بھی علمی ودینی طور پر مسلک سلف کا حامل ہے۔ حافظ صاحب 1383 ھ بمطابق 1953 م میں ضلع خانیوال کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے جہاں پر ان کے ننھیال آباد تھے ، اور بعد میں ان کے والد محترم نے شرقپور کو اپنا مستقل مستقر بنا لیا، اور تبلیغ کی خاطر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

ابتدائی تعلیم وتربیت کے مراحل اپنے والد گرامی قدر سے طے کیے اور ان کی تعلیم وتربیت میں ان کے چچا بھی شریک رہے۔ 1972 م میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ اس کے بعد جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں شیخ ابو البرکات وغیرہ اساتذہ سے نقلی وعقلی علوم میں کسب فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں آخری دو سال تعلیم مکمل کی ۔ جہاں پر ان کے شیوخ میں حافظ عبداللہ بڈھیمالوی اور شیخ ثناء اللہ مدنی جیسی شخصیات تھیں۔ اس کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ، اور کلیۃ الشریعۃ سے ممتاز حیثیت سے فراغت پائی ۔ جہاں انہیں شیخ محمد امین شنقیطی جیسے متجر عالم اور مفسر قرآن سے استفادہ کا موقع ملا اور اسی طرح شیخ عبدالمحسن العباد وغیرہ سے شرف تلمذ حاصل ہوا۔

            جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد عرصہ چھ سال تک جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریس کے فرائض سر انجام دیئے اور مدیر التعلیم کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے بعد دس سال تک جامعہ ابی بکر کراچی میں مدرس اور عمید( Dean ) کلیہ الشریعہ رہے۔ اور اب 1991 م سے دوبارہ جامعہ سلفیہ میں شیخ التفسیر اور نائب شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکز التربیہ الاسلامیہ میں استاذ التفسیر بھی ہیں۔ تعلیم اور دعوت کے میدان میں انہوں نے نہایت قابل قدر مساعی جمیلہ انجام دی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلوب بیان ، جوہر خطابت اور حکمت وبصیرت سے حظ وافر عطا فرمایا ہے۔ حافظ محمد یحي عزیز رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کو ادارۃ الاصلاح پاکستان کا امیر مقرر کیا گیا ۔ اسی طرح آپ ’’ التربیہ انٹرنیشنل ٹرسٹ ‘‘ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ اللہ تعالی ٰ ان کی علمی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور انہیں ایمان اور صحت وعافیت کے ساتھ طویل عمر سے نواز ے تاکہ لوگ ان کے وعظ ونصیحت اور توجیہات سے اپنے دامن بھرتے رہیں۔

ارشاد الحق الاثری حفظہ اللہ تعالی

مشہور محقق دوراں ومصنف مولانا ارشاد الحق اثری انیس سو اڑتالیس( 1948 ء) میں تحصیل فقیر والی ضلع بہاول نگر کے گائوں 72/7-R میں پیدا ہوئے ، آٹھویں جماعت تک تعلیم چک نمبر چوبیس (24) لیاقت پور میں مکمل کی ، جہاں پر ان کے والدین منتقل ہوگئے تھے۔ اس کے بعد بالترتیب مدرسہ قاسم العلوم لیاقت پور، جامعہ سلفیہ فیصل آباداور مدرسہ تدریس القرآن جھوک کٹو ، تاندلیانوالہ میں دینی تعلیم حاصل کی ۔انیس سو اڑسٹھ( 1968 ء )میں گوجرانوالہ میں محدث العصر حافظ محمد گوندلوی سے درس حدیث لیا۔

جماعت کے ثقہ علماء نے اسلامی علوم میں تخصص کے لیے ادارہ علوم اثریہ ، منٹگمری بازار فیصل آباد کی بنیاد رکھی ۔ مولانا ارشاد الحق اس ادارے کے ابتدائی طالب علموں میں شامل ہوئے ، اسی نسبت سے اثری کہلوائے۔ پھر اسی ادارے سے منسلک ہوگئے ، اور علمی وتحقیقی زندگی اختیار کر لی ۔ تصنیف وتالیف کے سلسلے میں انہوں نے بڑی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اب تک بیسیوں کتابیں تحقیق کے بعد شائع کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سی مستقل کتابیں بھی تصنیف کی ہیں جن میں سے اکثر مطبوع ومتد اول ہیں ۔ وہ حقیقی معنوں میں قرآن وحدیث اور مسلک ِ محدثین کے محافظ اور پہریدار ہیں۔ اس کے علاوہ دعوتی وتعلیمی میدان میں بھی خطبات ، محاضرات ، علمی دروس کی شکل میں ان کی خدمات کا سلسلہ ملک اور بیرون ملک تک پھیلا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اوقات میں برکت عطافرمائے اور مزید توفیق سے نوازے۔

ارشاد الحق الاثری حفظہ اللہ کی چند مطبوعات

 * پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث
* مولانا سرفراز صفدر اپنی تصانیف کے آئینے میں
* اسلام اور موسیقی –شبہات و مغالطات کا ازالہ
* احادیث صحیح بخاری و مسلم میں پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ
* تنقیح الکلام فی تایید توضیح الکلام
* توضیح الکلام فی وجوب القراۃ خلف الامام
* احادیث ہدایہ—فنی وتحقیقی حیثیت
* مقالات ارشاد الحق اثری
* مسلک احناف اور مولانا عبدالحئی لکھنوی
* فلاح کی راہیں
* اسباب اختلاف الفقہا ء
* امام بخاری پر بعض اعتراضات کا جائزہ

* مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم او رسلف کا موقف

* مقام صحابہ رضی اللہ عنہم
* خطبہ غدیر خم اور اہل بیت کے حقوق
* ا ٓفات نظر اور ان کا علاج

* شرح حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ
* مختلف سورتوں کی تفسیر

خالد بن بشیر مرجالوی حفظہ اللہ تعالی(سابقاً)

معروف استاد اور مربی حافظ محمد شریف صاحب نے رائیونڈ ضلع قصور کے قریبی گائوں بھمبہ کلاں میں 1958 ء میں آنکھ کھولی، آپ کے والد فتح محمد ایک زمیندار تھے۔ناظرہ قرآن کریم اور پرائمری تک تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد قریبی گائوں ’’ میر محمد ‘‘ میں حافظ محمد یحي عزیز کی زیر نگرانی مدرسہ میں صرف چھ ماہ میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ آپ کے حفظ کے استاد قاری صدیق الحسن رحمہ اللہ تھے۔خاندان میں آپ پہلے فرد تھے جو دولت توحید سے بہرہ ور ہوئے اور اس راستے میں ان کو بہت سے مصائب وآلام کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حفظ قرآن کے بعد ابتدائی کتب میر محمد اور مدرسہ ضیاء السنہ ۔ راجہ جنگ میں پڑھیں، اور اس کے بعد جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں چھ سال رہ کر تعلیم مکمل کی۔ جہاں پر انہیں حافظ محمد گوندلوی ، حافظ عبدالمنان نور پوری اور ماہر علوم عقلیہ مولانا جمعہ خان جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں آخری سال کی تکمیل کی اور سند فراغت حاصل کی۔ 1981 ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور کلیۃ الحدیث سے ممتاز حیثیت کے ساتھ فراغت حاصل کی، جہاں پر انہیں ڈاکٹر ربیع بن ھادی المدخلی، الشیخ عبدالفتاح العشور ، الشیخ عبدالموجود اور الشیخ عمر فلاتہ جیسے کبار اساتذہ سے کسب فیض کا موقعہ ملا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں روشن قوت حافظہ عطا فرمائی تھی لہذا آپ نے رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ھدایۃ النحو ، ألفیہ ابن مالک ، بلوغ المرام اور مختصر بخاری حفظ بھی کیں۔

جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد عرصہ پانچ سال تک جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیئے۔ اس کے بعد دس سال کا عرصہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مسند تدریس کی رونق رہے۔ دینی مدارس وجامعات میں علمی انحطاط اور تربیتی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے تخصص کی غرض سے1990 ء میں مرکز التربیۃ الاسلامیۃ کی بنیاد رکھی ۔ جس کی خدمات کا دائرہ بہت وسعت اختیار کر چکا ہے ۔  علاوہ ازیں ملک بھر میں آپ کے دعوتی دروس اور خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ دینی اور رفاہ عامہ کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ انہی خدمات کی ترتیب وتنظیم کے لیے 2007 ء میں ’’ التربیۃ انٹرنیشنل ٹرسٹ ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ رب کریم سے دعا ہے کہ صحت وعافیت کے ساتھ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اور ان کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔         

پروفیسر عبدالرزاق ساجد حفظہ اللہ تعالی (سابقاً)

معروف استاد اور مربی حافظ محمد شریف صاحب نے رائیونڈ ضلع قصور کے قریبی گائوں بھمبہ کلاں میں 1958 ء میں آنکھ کھولی، آپ کے والد فتح محمد ایک زمیندار تھے۔ناظرہ قرآن کریم اور پرائمری تک تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد قریبی گائوں ’’ میر محمد ‘‘ میں حافظ محمد یحي عزیز کی زیر نگرانی مدرسہ میں صرف چھ ماہ میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ آپ کے حفظ کے استاد قاری صدیق الحسن رحمہ اللہ تھے۔خاندان میں آپ پہلے فرد تھے جو دولت توحید سے بہرہ ور ہوئے اور اس راستے میں ان کو بہت سے مصائب وآلام کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حفظ قرآن کے بعد ابتدائی کتب میر محمد اور مدرسہ ضیاء السنہ ۔ راجہ جنگ میں پڑھیں، اور اس کے بعد جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں چھ سال رہ کر تعلیم مکمل کی۔ جہاں پر انہیں حافظ محمد گوندلوی ، حافظ عبدالمنان نور پوری اور ماہر علوم عقلیہ مولانا جمعہ خان جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں آخری سال کی تکمیل کی اور سند فراغت حاصل کی۔ 1981 ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور کلیۃ الحدیث سے ممتاز حیثیت کے ساتھ فراغت حاصل کی، جہاں پر انہیں ڈاکٹر ربیع بن ھادی المدخلی، الشیخ عبدالفتاح العشور ، الشیخ عبدالموجود اور الشیخ عمر فلاتہ جیسے کبار اساتذہ سے کسب فیض کا موقعہ ملا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں روشن قوت حافظہ عطا فرمائی تھی لہذا آپ نے رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ھدایۃ النحو ، ألفیہ ابن مالک ، بلوغ المرام اور مختصر بخاری حفظ بھی کیں۔

جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد عرصہ پانچ سال تک جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیئے۔ اس کے بعد دس سال کا عرصہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مسند تدریس کی رونق رہے۔ دینی مدارس وجامعات میں علمی انحطاط اور تربیتی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے تخصص کی غرض سے1990 ء میں مرکز التربیۃ الاسلامیۃ کی بنیاد رکھی ۔ جس کی خدمات کا دائرہ بہت وسعت اختیار کر چکا ہے ۔  علاوہ ازیں ملک بھر میں آپ کے دعوتی دروس اور خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ دینی اور رفاہ عامہ کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ انہی خدمات کی ترتیب وتنظیم کے لیے 2007 ء میں ’’ التربیۃ انٹرنیشنل ٹرسٹ ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ رب کریم سے دعا ہے کہ صحت وعافیت کے ساتھ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اور ان کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔         

ڈاکٹر محمد منیر اظہربن عبدالکریم حفظہ اللہ تعالی

آپ کے والد گرامی  طبیب تھے اور زراعت  کا شغل بھی رکھتے  تھے ، آپ 1972ءکو میاں چنوں کے نواہی گاؤں چک نمبر 7/8A.R کرملی والا میں پیدا ہوئے ،پرائمری تک بنیادی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ،قرآن کی بنیادی تعلیم معروف  عالم دین مولانا عبدالستار سے حاصل کی ، مڈل  چک20/8.Rاور میٹرک ایم سی ماڈل ہائی اسکول میاں چنوں سے سائنس کے  مضامین کے ساتھ پاس  کیا ،1989ء میں  دینی تعلیم کے لیے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں شعبہ تحفیظ القرٓن میں  داخلہ لیا  اور ڈیڑھ سال میں حفظ ِقرآن  کی تکمیل کی ،اس کے بعد  شعبہ کتب میں داخل ہوئے  اور جامعہ  سلفیہ سے ہی  1998ءمیں درس نظامی سے فراغت ہوئی ،اسی طرح 1994ء  میں مرکز التربیۃ الاسلامیہ میں شعبہ تخصص  میں شمولیت اختیار کی اور حافظ محمد شریف حفظہ اللہ  کی زیر نگرانی وہیں 1999ءمیں  پہلے بیچ میں اپنی تعلیم مکمل کی ، جامعہ سلفیہ  میں زیر تعلیم رہتے ہوئے آپ نےBISE ملتان سے  ایف   اے  اور BZU ملتان سے بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا ، جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد میں  درسِ نظامی کی تکمیل (1999ء)کے متصل بعد   تدریس کا آغاز کیا ،2000ء میں ایم اے عربی کا امتحان جامعہ اسلامیہ ، بہاولپور سے دیا  اور  تمام طلبہ میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی   ،2005میں پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور2012 ء میں زبانی امتحان میں کامیابی کے بعد ڈگری ایوارڈ ہوئی ۔ 

 سیشن2013- 2014 میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایم اے عربی ،ایم اے اسلامیات ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز کو پڑھانے کا موقع ملا ، 2016ء سے تا دم تحریر  جامعہ اسلامیہ، بہاولپور (بہاولنگر کیمپس ) میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اور   صدر شعبہ علوم اسلامیہ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، یہاں بی ایس اور ایم فل کی کلاسز  پڑھانے کے علاوہ  کئی   پی ایچ ڈی  اسکالرزآ ٓپ کی زیر نگرانی تحقیق بھی کر رہے  ہیں ۔ اسی طرح مرکز التربیۃ الاسلامیہ میں بھی  کچھ وقت دیتے ہیں جس میں  آپ انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ  تحقیق وتصنیف کے شعبہ سے بھی منسلک ہیں ۔ بارک اللہ فیہ ۔

ڈاکٹر محمد محفوظ اعوان حفظہ اللہ تعالی

آپ کے والد گرامی  طبیب تھے اور زراعت  کا شغل بھی رکھتے  تھے ، آپ 1972ءکو میاں چنوں کے نواہی گاؤں چک نمبر 7/8A.R کرملی والا میں پیدا ہوئے ،پرائمری تک بنیادی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ،قرآن کی بنیادی تعلیم معروف  عالم دین مولانا عبدالستار سے حاصل کی ، مڈل  چک20/8.Rاور میٹرک ایم سی ماڈل ہائی اسکول میاں چنوں سے سائنس کے  مضامین کے ساتھ پاس  کیا ،1989ء میں  دینی تعلیم کے لیے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں شعبہ تحفیظ القرٓن میں  داخلہ لیا  اور ڈیڑھ سال میں حفظ ِقرآن  کی تکمیل کی ،اس کے بعد  شعبہ کتب میں داخل ہوئے  اور جامعہ  سلفیہ سے ہی  1998ءمیں درس نظامی سے فراغت ہوئی ،اسی طرح 1994ء  میں مرکز التربیۃ الاسلامیہ میں شعبہ تخصص  میں شمولیت اختیار کی اور حافظ محمد شریف حفظہ اللہ  کی زیر نگرانی وہیں 1999ءمیں  پہلے بیچ میں اپنی تعلیم مکمل کی ، جامعہ سلفیہ  میں زیر تعلیم رہتے ہوئے آپ نےBISE ملتان سے  ایف   اے  اور BZU ملتان سے بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا ، جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد میں  درسِ نظامی کی تکمیل (1999ء)کے متصل بعد   تدریس کا آغاز کیا ،2000ء میں ایم اے عربی کا امتحان جامعہ اسلامیہ ، بہاولپور سے دیا  اور  تمام طلبہ میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی   ،2005میں پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور2012 ء میں زبانی امتحان میں کامیابی کے بعد ڈگری ایوارڈ ہوئی ۔ 

 سیشن2013- 2014 میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایم اے عربی ،ایم اے اسلامیات ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز کو پڑھانے کا موقع ملا ، 2016ء سے تا دم تحریر  جامعہ اسلامیہ، بہاولپور (بہاولنگر کیمپس ) میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اور   صدر شعبہ علوم اسلامیہ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، یہاں بی ایس اور ایم فل کی کلاسز  پڑھانے کے علاوہ  کئی   پی ایچ ڈی  اسکالرزآ ٓپ کی زیر نگرانی تحقیق بھی کر رہے  ہیں ۔ اسی طرح مرکز التربیۃ الاسلامیہ میں بھی  کچھ وقت دیتے ہیں جس میں  آپ انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ  تحقیق وتصنیف کے شعبہ سے بھی منسلک ہیں ۔ بارک اللہ فیہ ۔

Need Help? Chat with us