نصاب
التربیہ انٹرنیشنل ٹرسٹ
موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کی سب سے بڑی پریشانی منہج تعلیم اور اسلوب تدریس ہے جہان سے فارغ ہونے والے طلباء کو ڈگری تو حاصل ہوجاتی ہے لیکن ان میں علمی رسوخ اور تربیت کا بہت بڑا فقدان پایا جاتا ہے ۔اس مرکز نے ان تمام خامیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کبار علماء کی مشاورت سے ایک ایسا جامع نصاب اور منہج واسلوب تدریس تشکیل دیا ہے جس کے ذریعے ایسے رجال کار تیار کیے جاتے ہے جوتعلیمی اور تربیتی میدان میں مدبرانہ اورقائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہوں۔مرکز الدراسات العلیا میں کورس کا دورانیہ دو سال ہے اور دوسال بعد ہی نئی کلاس کا آغاز ہوتا ہے۔
اسلوب تدریس
تعلیم وتربیت میں سب سے پہلی اور ضروری چیز استاذ اور شاگرد کا تعلق ہے۔مرکز الدراسات العلیا میں استاذ اور شاگرد کا تعلق باپ اور بیٹے کی طرح ہے۔ یہاں کے اساتذہ نہایت ہی مشفق ومربی ہیں اور چوبیس گھنٹے طلباء کی رہنمائی کے لیے موجود ہوتے ہیں۔
تعلیم میں سب سے بنیادی چیز اصول اور متون ہیں ۔ مرکز الدرسات میں نماز فجر کے فورا بعد حفظِ نصوص کی کلاس کا اجراء کیا جاتا ہے جس میں طلبہ تفسیر ، حدیث، فقہ اور عربی ادب میں مختلف اور اہم ترین متون حفظ کرتے ہیں اور ساتھ ہی حفظ القرآن کے ساتھ بلوغ المرام اور صحیح البخاری بھی حفظ کروائی جاتی ہے۔
اس کے بعد باقاعدہ کلاس کا آغاز ہوتا ہے جو نماز ظہر تک اختتام پذیر ہوتی ہے جس میں استاذ اپنے اپنے موضوع پر اصل کتاب کو سامنے رکھتے ہوئے علمی محاضرہ پیش کرتا ہے اور مختلف کتب سے علمی فوائد بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی احادیث کی صحت وضعف پر سیرِحاصل بحث بھی کرتا ہے۔
نصاب تدریس
یہ دو سالہ کورس چار سمسٹر پر مشتمل ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے
پہلا سمسٹر
الاصول الثلاثہ وکشف الشبہات شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ
- مقدمہ فی اصول التفسیر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ۔
- الفوز الکبیر فی اصول التفسیر شاہ ولی اللہ الدھلوی۔
- نظرۃ فی اصول التفسیر عبدالحمید فراہی۔
[مراجع: فصول فی اصول التفسیرمساعدبن سلیمان الطیار، البرھان فی علوم القرآن محمد بن بہادر الزرکشی ، مناہل العرفان فی علوم القرآن محمد عبدالعظیم الزرقانی، الاتقان فی علوم القرآن جلال الدین السیوطی، مقدمہ محاسن التاویل محمد جمال الدین القاسمی، رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن عبدالحمید الفراہی[
- الباعث الحثیث شرح اختصار علوم الحدیث حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ۔
- نزہۃ النظرشرح نخبۃ الفکر حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ۔
[مراجع: الرسالۃ امام شافعی، مقدمہ ابن الصلاح، النکت علی ابن الصلاح ابن حجر، شرح علل الترمذی حافظ ابن رجب الحنبلی، فتح المغیث امام سخاوی، الفیۃ الحدیث عراقی، توضیح الافکار صنعانی، قواعد التحدیث محمد جمال الدین القاسمی، شروح نخبۃ الفکر والباعث الحثیث]
الورقات ابو المعالی عبدالملک بن عبداللہ بن یوسف الجوینی۔
شرح قطر الندی وبل الصدی ابن ہشام۔
روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ابو حاتم محمد بن حبان البستی۔
مفتاح الانشاء محمد بشیر سیالکوٹی (دونوں حصے)
ہفتے کے آخری دن (جمعرات) کو مطالعاتی اور تجرباتی کلاس ہو تی ہے۔ مطالعہ میں دو کتابوں: آداب المتعلمین عبدالغفور العطار اور خطبات مدراس سید سلیمان ندوی کا دراسہ ہوتا ہے۔ جبکہ تجرباتی کلاس میں طلبہ لغت، ادب، بلاغہ، سیرت اور تاریخ کے مصادرِ اصلیہ کی پہچان کرتے ہیں اور لغت وسیرت پر مختصر سا مقالہ بھی لکھتے ہیں۔
دوسرا سمسٹر
کتاب التوحید محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ۔
پہلے دس سیپارے ( الم سے واعلموا تک)۔
[مراجع: تفسیر القرآن العظیم ابن کثیر رحمہ اللہ، جامع البیان فی تاویل آی القرآن امام طبری، اضواء البیان محمد امین شنقیطی، الجامع لاحکام القرآن امام قرطبی، فتح القدیر محمد بن علی الشوکانی]
نزہۃ النظر شرح نخبۃ الفکر حافظ ابن حجر العسقلانی۔
سبل السلام شرح بلوغ المرام محمد بن اسماعیل الصنعانی۔
[ مراجع: المغنی ابن قدامہ ، المحلی ابن حزم، مجموع الفتاوی ابن تیمیہ، زاد المعاد ابن القیم، نیل الاوطار وسیل الجرار محمد بن علی الشوکانی، مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح عبیداللہ مبارکپوری، البدر التمام حسین بن محمد المغربی، فتح ذی الجلال والاکرام محمد بن صالح العثیمین، وغیرہ]
- سنن ابو داود سےکتاب الطھارۃ ۔
- جامع الترمذی سے کتاب الصلاۃ اور کتاب الفتن۔
- النبذ فی اصول الفقہ ابن حزم۔
- روضۃ الناظر ابن قدامہ المقدسی (حصہ اول)۔
[مراجع: الرسالہ امام شافعی، ارشاد الفحول فی علم الاصول امام شوکانی، اتحاف ذوی البصائر بشرح روضۃ الناظر ڈاکٹر عبدالکریم نملہ،الاحکام فی اصول الاحکام ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام آمدی، مذکرۃ فی اصول الفقہ محمد امین الشنقیطی،الوجیز فی اصول الفقہ عبدالکریم زیدان، اصول الفقہ الاسلامی وھبۃ الزحیلی]
ہفتے کے آخری دن (جمعرات) کو مطالعاتی اور تجرباتی کلاس ہو تی ہے۔ مطالعہ میں دو کتابوں: اکمل البیان فی تایید تقویۃ الایمان حافظ عزیز الدین مراد آبادی اور سید اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اورمخالفین اہل بدعت کے اعتراضات منظور نعمانی کا جواب کا دراسہ ہوتا ہے۔ جبکہ تجرباتی کلاس میں طلبہ تفسیر وحدیث کے اہم ترین مراجع کی پہچان اور ان کے منہج واسلوب کا مطالعہ کرتے ہیں اور تفسیر وحدیث کے موضوعات پر مختصر سا مقالہ بھی لکھتے ہیں۔
تیسرا سمسٹر
- شرح العقیدۃ الواسطیہ ڈاکٹر صالح الفوزان۔
- العقیدۃ الحمویۃ الکبری شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ۔
[ مراجع: الروضۃ الندیہ شرح العقیدۃ الواسطیہ زید بن عبدالعزیز الفیاض، جامع الدروس العقدیہ فی شرح العقیدۃ الواسطیہ عبدالرحمن بن ناصر وفیصل بن عبدالعزیز ومحمد بن خلیل الھراس وابن عثیمین وصالح بن فوزان مع تعلیقات ابن باز وعبدالعزیز بن محمد بن مانع، جامع الدروس العقدیہ فی شرح العقیدۃ الطحاویہ تعلیقات ابن باز والالبانی وعبدالرزاق العفیفی، القواعد المثلی فی صفات اللہ تعالی واسمائہ الحسنی ابن عثیمیں، الاسماء والصفات ابو بکر البیہقی، العلو للعلی الغفار امام ذھبی،منہج ودراسات لآیات الاسماء والصفات محمد امین الشنقیطی، الاسماء الحسنی والصفات العلی عبدالہادی بن حسن الوہبی]
دوسرے دس پارے (یعتذرون سے امن خلق تک)۔
قواعد التفسیر خالد بن عثمان السبت۔
- ضوابط الجرح والتعدیل ڈاکٹر عبدالعزیز بن محمد۔
[ مراجع: اصول التخریج ودراسۃ الاسانید ڈاکٹر محمود الطحان، کشف اللثام عن اسرار تخریج حدیث سید الانام عبدالموجود محمد عبداللطیف، مقدمۃ الجرح والتعدیل ابن ابی حاتم،دراسات فی الجرح واتعدیل ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی،اکرفع والتکمیل والاجوبۃ النافعہ عبدالحیی لکھنوی، قاعدۃ فی الجرح والتعدیل سبکی، المدخل الی علم الجرح والتعدیل ابو محمد حازم الشربینی، جرح الرواۃ وتعدیلھم الاسس والضوابط محمود عیدان الدیلمی]
سبل السلام شرح بلوغ المرام محمد بن اسماعیل الصنعانی۔
- سنن النسائی سے کتاب النکاح اور کتاب الوثائق۔
- سنن ابن ماجہ سے کتاب السنہ۔
- سنن دارمی کا مقدمہ۔
روضۃ الناظر ابن قدامہ المقدسی (حصہ دوم)۔
- عمدۃ الفقہ ابن قدامہ المقدسی۔
- دلیل الطالب لنیل المطالب مرعی بن یوسف الکرمی الحنبلی۔
ہفتے کے آخری دن (جمعرات) کو مطالعاتی اور تجرباتی کلاس ہو تی ہے۔ مطالعہ میں دو کتابوں: اوثق عری الایمان سلیمان بن عبداللہ بن محمد بن عبدالوھاب اور تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تجدیدی مساعی محمد بن اسماعیل السلفی کا دراسہ ہوتا ہے۔ جبکہ تجرباتی کلاس میں طلبہ فقہِ مذاہبِ اربعہ اور فقہ المقارن کے اہم ترین مراجع کی پہچان اورعربی واردو فتاوی کا مطالعہ کرتے ہیں اور فتوی کا عملی طریقہ بھی سیکھتے ہیں ۔فقہ وفتوی کے موضوع پر مختصر سا مقالہ بھی تحریر کرتے ہیں۔
چوتھا سمسٹر
- الرسالۃ التدمریہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ۔
[ مراجع: تحکیم القوانین شیخ محمد بن ابراہیم، العذر بالجھل تحت المجھر الشرعی ابو یوسف مدحت بن الحسن]
آخری دس سیپارے ( اتل ما اوحی سے عم تک)۔
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی جلال الدین السیوطی۔
صحیح مسلم کا مقدمہ اور صحیح بخاری سے کتاب البیوع اور کتاب الاعتصام۔
سبل السلام شرح بلوغ المرام محمد بن اسماعیل الصنعانی۔
اعلام الموقعین سے مخصوص مباحث، فتاوی شامی (رد المحتار) کا مقدمہ۔
الوجیز فی شرح القواعد الکلیہ الفقھیہ محمد صدقی بن احمد بورنو۔
[ مراجع: القواعد ابن رجب الحنبلی، الاشباہ والنظائر جلال الدین السیوطی، القواعد الکلیہ والضوابط الفقہیہ فی الشریعۃ الاسلامیہ محمد بن عثمان شبیر، موسوعۃ القواعد الفقہیہ محمد صدقی بن احمد بورنو، القواعد الحاکمہ لفقہ المعاملات ڈاکٹر یوسف قرضاوی، القواعد الفقہیہ المتعلقہ بالبیوع سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی]
- استاذ محترم اس موضوع پر محاضرہ پیش کرے گا اور شبہات کا ازالہ کرے گا۔
[ مراجع: السنہ ومکانتہا ڈاکٹر مصطفی السباعی، حجیۃ السنہ عبدالغنی عبدالخالق زوابع، حجیۃ السنہ لقمان السلفی، الانوار الکاشفہ عبدالرحمن بن یحیی المعلمی، الدفاع عن ابی ہریرۃ عبدالمنعم العزی]
ہفتے کے آخری دن (جمعرات) کو مطالعاتی اور تجرباتی کلاس ہو تی ہے۔ مطالعہ میں دو کتابوں: حسن البیان شیخ عبدالعزیز رحیم آبادی اور الارشاد الی سبیل الرشاد محمد شاہجہانپوری کا دراسہ ہوتا ہے۔ جبکہ تجرباتی کلاس میں طلبہ فقہِ مذاہبِ اربعہ اور فقہ المقارن کے اہم ترین مراجع کی پہچان اورعربی واردو فتاوی کا مطالعہ کرتے ہیں اور فتوی کا عملی طریقہ بھی سیکھتے ہیں ۔فقہ وفتوی کے موضوع پر مختصر سا مقالہ بھی تحریر کرتے ہیں۔
یہ مرکز طلبہ کے لیے ماہانہ طور پردینی اور علمی محاضرات کا اہتمام کرتا ہے جس میں اندرون وبیرونِ ملک سے کبار اور جید علماء کرام کو مدعو کیا جاتا ہے۔